حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ کانفرنس دو علمی نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست سے ڈاکٹر عاطف اسلم راؤ، ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی، ڈاکٹر موسیٰ لاکھانی اور ڈاکٹر محمد شہزاد شیخ نے خطاب کیا جبکہ دوسری نشست میں ڈاکٹر محسن نقوی، مولانا ڈاکٹر محمد نعمان نعیم اور ڈاکٹر ذیشان احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
الدعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے مہمانانِ گرامی اور شرکائے کانفرنس کا خیرمقدم کرتے ہوئے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر عاطف اسلم راؤ نے اسلامی ریاست کے حقیقی مفہوم اور اس کے استحکام کے بنیادی عناصر پر گفتگو کرتے ہوئے اخوت، رواداری، تحمل و برداشت، شوریٰ و مشاورت، طویل المدتی منصوبہ بندی، مکالمہ، دلیل، اجتماعی مفاد اور حکمتِ عملی کو ریاستی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے صلحِ حدیبیہ، حجرِ اسود کی تنصیب اور فتحِ مکہ کے واقعات سے ریاستی قیادت کے لیے اہم رہنما اصول بھی اجاگر کیے۔
ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی نے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں عدل و انصاف، قانون کی بالادستی اور مناصب میں امانت و دیانت کی اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا: ’’ریاست قانون سے چلتی ہے، لیکن عدل سے مضبوط ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کے مختلف معیار کے تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر موسیٰ لاکھانی نے عصرِ حاضر کے مسائل کے حل کے لیے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رہنما معیار قرار دیتے ہوئے جدید معاشرتی اور فکری چیلنجز کے تناظر میں سیرتِ طیبہ سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر محسن نقوی نے سیرتِ نظری اور سیرتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محض مطالعے اور گفتگو تک محدود رکھنے کے بجائے عصرِ حاضر کے مسائل اور عملی زندگی میں رہنمائی کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔
مولانا ڈاکٹر محمد نعمان نعیم نے نوجوانوں کے کردار اور اسلامی معیشت کے استحکام کو ریاست کی مضبوطی کے اہم عوامل قرار دیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے اور انہیں اہم ذمہ داریاں سونپنے پر زور دیا۔

ڈاکٹر ذیشان احمد نے پاکستان کو درپیش بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے تنگ نظری، میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور منفی ذہن سازی کو اہم داخلی خطرات قرار دیا۔ انہوں نے فکری بیداری اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔










آپ کا تبصرہ